شوگر کی علامات اکثر اتنی خاموشی سے شروع ہوتی ہیں کہ بہت سے لوگ برسوں تک انہیں عام تھکاوٹ یا بڑھتی عمر کا اثر سمجھتے رہتے ہیں۔ بار بار پیاس لگنا، رات کو کئی بار پیشاب کے لیے اٹھنا، یا چھوٹے سے زخم کا ہفتوں تک نہ بھرنا، یہ سب ایسی نشانیاں ہیں جو جسم کا پیغام ہو سکتی ہیں۔ پاکستان میں یہ مسئلہ اس لیے بھی بہت اہم ہے کہ یہاں ذیابیطس دنیا کی بلند ترین شرحوں میں سے ایک پر پائی جاتی ہے۔
اچھی بات یہ ہے کہ وقت پر تشخیص، درست علاج اور طرز زندگی میں تبدیلی سے ذیابیطس کے ساتھ بھی لمبی اور صحت مند زندگی گزاری جا سکتی ہے۔ اس مضمون میں ہم نو ابتدائی نشانیاں، ضروری ٹیسٹ، اور بچاؤ کے آسان طریقے بیان کر رہے ہیں۔
فہرستِ مضامین
ذیابیطس کیا ہے؟
ہمارا جسم کھانے سے حاصل ہونے والی گلوکوز کو توانائی کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ گلوکوز کو خون سے خلیوں تک پہنچانے کا کام انسولین کرتی ہے، جو لبلبہ بناتا ہے۔ ذیابیطس میں یا تو جسم کافی انسولین نہیں بناتا، یا جو انسولین بنتی ہے وہ ٹھیک طرح کام نہیں کرتی۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ خون میں شکر کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔
طویل عرصے تک بڑھی ہوئی شکر دل، گردوں، آنکھوں، اعصاب اور پاؤں کو نقصان پہنچاتی ہے۔ اسی لیے جتنی جلدی تشخیص ہو، پیچیدگیوں کا خطرہ اتنا ہی کم ہوتا ہے۔
ذیابیطس کی اقسام
ٹائپ ون
اس میں جسم کا دفاعی نظام غلطی سے لبلبے کے انسولین بنانے والے خلیوں پر حملہ کر دیتا ہے۔ یہ عام طور پر بچپن یا جوانی میں ظاہر ہوتی ہے اور مریض کو زندگی بھر انسولین لینی پڑتی ہے۔ اس کا تعلق کھانے پینے یا وزن سے نہیں۔
ٹائپ ٹو
یہ سب سے عام قسم ہے اور زیادہ تر بالغوں میں پائی جاتی ہے۔ اس میں جسم انسولین کا صحیح استعمال نہیں کر پاتا۔ وزن زیادہ ہونا، خاص طور پر پیٹ کا بڑھنا، جسمانی سرگرمی کی کمی، خاندانی تاریخ اور بڑھتی عمر اس کے بڑے عوامل ہیں۔ اچھی خبر یہ ہے کہ بہت سے معاملات میں یہ قسم طرز زندگی بدل کر روکی یا مؤخر کی جا سکتی ہے۔
حمل کے دوران ذیابیطس
کچھ خواتین میں حمل کے دوران شکر بڑھ جاتی ہے۔ زیادہ تر یہ بچے کی پیدائش کے بعد ٹھیک ہو جاتی ہے، لیکن ایسی خواتین میں بعد میں ٹائپ ٹو ذیابیطس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، اس لیے بعد میں بھی باقاعدہ ٹیسٹ ضروری ہیں۔
پری ڈائبیٹیز
یہ وہ حالت ہے جب شکر معمول سے زیادہ ہو مگر ابھی ذیابیطس کی حد تک نہ پہنچی ہو۔ یہ ایک انتباہ ہے، اور اس مرحلے پر وزن کم کرنا اور ورزش شروع کرنا سب سے زیادہ فائدہ دیتا ہے۔
پاکستان میں ذیابیطس کی صورتحال
انٹرنیشنل ڈائبیٹیز فیڈریشن کے 2021 کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں تقریباً ہر چار میں سے ایک بالغ شخص ذیابیطس کا شکار تھا، اور متاثرہ افراد کی تعداد تین کروڑ سے زیادہ تھی۔ اس سے بھی تشویشناک بات یہ ہے کہ بہت سے لوگوں کو معلوم ہی نہیں کہ وہ اس بیماری میں مبتلا ہیں۔
اس کی وجوہات میں خاندانی رجحان، کم جسمانی سرگرمی، میٹھے مشروبات، میدے سے بنی اشیاء، تلی ہوئی خوراک کا عام استعمال اور باقاعدہ چیک اپ کی کمی شامل ہیں۔ جنوبی ایشیا کے لوگوں میں یہ بیماری اکثر کم وزن اور کم عمری میں بھی ظاہر ہو جاتی ہے۔
شوگر کی علامات: 9 ابتدائی نشانیاں
1. بار بار پیاس لگنا
جب خون میں شکر بڑھ جاتی ہے تو گردے اضافی شکر کو پیشاب کے ذریعے نکالنے کی کوشش کرتے ہیں، جس سے جسم میں پانی کی کمی ہوتی ہے اور بار بار پیاس لگتی ہے۔ سردیوں میں بھی غیر معمولی پیاس ایک اہم اشارہ ہے۔
2. بار بار پیشاب آنا، خاص طور پر رات کو
اگر آپ رات کو دو تین بار باتھ روم جانے کے لیے اٹھتے ہیں حالانکہ پہلے ایسا نہیں تھا، تو یہ شکر بڑھنے کی علامت ہو سکتی ہے۔ مردوں میں اس کی وجہ غدود کا مسئلہ بھی ہو سکتی ہے، اس لیے ڈاکٹر سے معائنہ ضروری ہے۔
3. بہت زیادہ بھوک لگنا
جب گلوکوز خلیوں تک نہیں پہنچتی تو جسم کو لگتا ہے کہ اسے توانائی نہیں مل رہی، اور کھانا کھانے کے کچھ دیر بعد دوبارہ بھوک لگنے لگتی ہے۔
4. بغیر وجہ وزن کم ہونا
خاص طور پر ٹائپ ون میں، اور کبھی کبھی ٹائپ ٹو میں بھی، کھانا پہلے جتنا یا زیادہ کھانے کے باوجود وزن تیزی سے کم ہونے لگتا ہے۔ جسم توانائی کے لیے چربی اور پٹھوں کو توڑنے لگتا ہے۔
5. مسلسل تھکاوٹ اور کمزوری
پوری نیند کے باوجود تھکاوٹ محسوس ہونا ایک عام مگر نظر انداز کی جانے والی علامت ہے۔ یہ دوسری بیماریوں میں بھی ہوتی ہے، اس لیے دوسری علامات کے ساتھ دیکھی جائے تو زیادہ معنی رکھتی ہے۔
6. نظر میں دھندلاپن
شکر بڑھنے سے آنکھ کے عدسے میں پانی کی مقدار بدل جاتی ہے اور نظر وقتی طور پر دھندلی ہو سکتی ہے۔ اگر آپ کی عینک کا نمبر بار بار بدل رہا ہو تو شکر بھی چیک کروائیں۔
7. زخموں کا دیر سے بھرنا
بڑھی ہوئی شکر خون کی گردش اور قوت مدافعت کو متاثر کرتی ہے، اس لیے چھوٹے زخم بھی دیر سے بھرتے ہیں۔ پاؤں پر لگنے والے زخم خاص طور پر توجہ مانگتے ہیں۔
8. بار بار انفیکشن
مسوڑوں، جلد، پیشاب کی نالی یا فنگس کے بار بار ہونے والے انفیکشن بھی ذیابیطس کی طرف اشارہ کر سکتے ہیں۔ خواتین میں بار بار ہونے والا فنگل انفیکشن ایک اہم اشارہ ہے۔
9. ہاتھ پاؤں میں سن ہونا یا جھنجھناہٹ
طویل عرصے تک بڑھی شکر اعصاب کو نقصان پہنچاتی ہے، جس سے پاؤں میں جلن، سوئیاں چبھنے کا احساس یا سن ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ بعض لوگوں کی گردن یا بغلوں کی جلد پر گہرے رنگ کے مخملی دھبے بھی بن جاتے ہیں، جو انسولین کے صحیح کام نہ کرنے کی علامت ہو سکتے ہیں۔
یاد رکھیں کہ ٹائپ ٹو ذیابیطس میں کئی لوگوں کو شروع میں کوئی واضح علامت محسوس نہیں ہوتی۔ اسی لیے علامات کا انتظار کیے بغیر باقاعدہ ٹیسٹ کروانا ضروری ہے۔
کن لوگوں کو زیادہ خطرہ ہے؟
آپ کو باقاعدہ ٹیسٹ کروانا چاہیے اگر:
- والدین یا بہن بھائیوں میں سے کسی کو ذیابیطس ہے
- وزن زیادہ ہے یا پیٹ بڑھا ہوا ہے
- عمر چالیس سال سے زیادہ ہے
- بلڈ پریشر یا کولیسٹرول زیادہ ہے
- جسمانی سرگرمی بہت کم ہے
- حمل کے دوران شکر بڑھی تھی
پاکستان میں خطرے کی شرح زیادہ ہونے کی وجہ سے بہت سے ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ تمام بالغ افراد وقتاً فوقتاً شکر چیک کرواتے رہیں۔
شوگر کی تشخیص کے ٹیسٹ
ذیابیطس کی تشخیص خون کے سادہ ٹیسٹوں سے ہوتی ہے۔ عام طور پر استعمال ہونے والی حدود یہ ہیں:
- فاسٹنگ شکر (آٹھ گھنٹے کچھ کھائے پیے بغیر): ایک سو سے کم نارمل، ایک سو سے ایک سو پچیس پری ڈائبیٹیز، اور ایک سو چھبیس یا اس سے زیادہ ذیابیطس (ملی گرام فی ڈسی لیٹر)
- ایچ بی اے ون سی، جو پچھلے تین مہینوں کی اوسط شکر بتاتا ہے: پانچ اعشاریہ سات فیصد سے چھ اعشاریہ چار فیصد پری ڈائبیٹیز، اور چھ اعشاریہ پانچ فیصد یا زیادہ ذیابیطس
- رینڈم شکر: علامات کے ساتھ دو سو یا اس سے زیادہ ذیابیطس کی طرف اشارہ کرتی ہے
گھر پر گلوکو میٹر سے ٹیسٹ کرنا مفید ہے لیکن تشخیص کے لیے لیبارٹری ٹیسٹ اور ڈاکٹر کا مشورہ ضروری ہے۔ ایک ٹیسٹ کی بنیاد پر خود سے نتیجہ نکالنا درست نہیں۔
شکر کم ہو جانا: ایک خطرناک حالت
جو لوگ ذیابیطس کی دوا یا انسولین لیتے ہیں ان کی شکر کبھی کبھی بہت کم ہو جاتی ہے، خاص طور پر اگر کھانا دیر سے کھایا جائے یا زیادہ مشقت کی جائے۔ اس کی علامات میں پسینہ آنا، کپکپی، دل کی دھڑکن تیز ہونا، بھوک، چڑچڑاپن اور ذہنی الجھن شامل ہیں۔
ایسی صورت میں فوری طور پر کوئی میٹھی چیز جیسے پھلوں کا جوس یا چینی والا پانی دیں۔ اگر مریض بے ہوش ہو جائے تو منہ میں کچھ نہ ڈالیں اور فوری طور پر ایمرجنسی مدد حاصل کریں۔ گھر والوں کو بھی یہ علامات سکھانا ضروری ہے۔
ذیابیطس سے بچاؤ کے آسان طریقے
ٹائپ ٹو ذیابیطس کا خطرہ چھوٹی مگر مسلسل تبدیلیوں سے کافی کم کیا جا سکتا ہے۔
روزانہ چلیں پھریں
ہفتے میں کم از کم ڈیڑھ سو منٹ تیز چلنا، یعنی دن میں تقریباً تیس منٹ، شکر کو قابو میں رکھنے میں بہت مددگار ہے۔ کھانے کے بعد دس پندرہ منٹ کی چھوٹی سی چہل قدمی بھی فائدہ دیتی ہے۔
میٹھے مشروبات سے دوری
سافٹ ڈرنکس، میٹھے جوس اور زیادہ چینی والی چائے خاموشی سے بہت زیادہ شکر جسم میں پہنچاتی ہیں۔ چائے میں چینی آہستہ آہستہ کم کریں، زبان چند ہفتوں میں عادی ہو جاتی ہے۔
میدے کی جگہ آٹا اور سبزیاں
سفید بریڈ، نان اور بیکری کی اشیاء کی جگہ چکی کے آٹے کی روٹی، دالیں، سبزیاں اور سلاد زیادہ کھائیں۔ پلیٹ کا آدھا حصہ سبزیوں سے بھرنا ایک آسان اصول ہے۔
وزن میں تھوڑی سی کمی بھی فرق ڈالتی ہے
تحقیق بتاتی ہے کہ پری ڈائبیٹیز والے افراد اگر اپنے وزن میں پانچ سے سات فیصد کمی کریں اور باقاعدہ ورزش کریں تو ذیابیطس کا خطرہ نمایاں کم ہو جاتا ہے۔ سخت ڈائٹنگ کی ضرورت نہیں، مسلسل چھوٹی تبدیلیاں زیادہ مؤثر ہوتی ہیں۔
نیند اور ذہنی دباؤ کا خیال
کم نیند اور مسلسل پریشانی بھی جسم میں شکر کے توازن کو بگاڑ سکتی ہے۔ روزانہ سات آٹھ گھنٹے کی نیند اور سگریٹ نوشی سے پرہیز مجموعی صحت کے ساتھ شکر کے خطرے کو بھی کم کرتی ہے۔
ذیابیطس کے بارے میں عام غلط فہمیاں
“میٹھا کھانے سے ہی شوگر ہوتی ہے۔” یہ آدھی بات ہے۔ میٹھا وزن بڑھا کر خطرہ بڑھاتا ہے، لیکن خاندانی تاریخ، سست طرز زندگی اور مجموعی خوراک بھی اتنے ہی اہم ہیں۔
“کریلے کا جوس یا دارچینی سے شوگر ختم ہو جاتی ہے۔” کوئی بھی جڑی بوٹی ذیابیطس کا علاج نہیں۔ کچھ چیزیں صحت مند غذا کا حصہ ہو سکتی ہیں، مگر دوا چھوڑ کر صرف نسخوں پر انحصار کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔
“انسولین شروع ہو گئی تو کبھی نہیں چھوٹے گی۔” انسولین کوئی سزا یا آخری مرحلہ نہیں، بلکہ ایک مؤثر علاج ہے۔ ڈاکٹر بہتر جانتا ہے کہ کس مریض کو کب کس علاج کی ضرورت ہے۔
رمضان اور ذیابیطس
بہت سے ذیابیطس کے مریض روزے رکھنا چاہتے ہیں۔ ایسے مریضوں کو رمضان سے کچھ ہفتے پہلے اپنے ڈاکٹر سے ملنا چاہیے تاکہ دوا کے اوقات اور مقدار میں ضروری تبدیلی کی جا سکے۔ روزے کے دوران شکر بہت کم ہو جائے تو روزہ توڑنا ضروری ہو سکتا ہے، اور علما بھی صحت کو ترجیح دینے کی تلقین کرتے ہیں۔
پاؤں کی حفاظت: ایک اہم مگر نظر انداز کردہ پہلو
ذیابیطس کے مریضوں میں پاؤں کے زخم بعض اوقات سنگین صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ روزانہ پاؤں دیکھیں، انہیں صاف اور خشک رکھیں، ننگے پاؤں نہ چلیں، آرام دہ جوتے پہنیں اور کسی بھی زخم، سوجن یا رنگ کی تبدیلی کو فوراً ڈاکٹر کو دکھائیں۔
ذیابیطس کے ساتھ صحت مند زندگی
تشخیص ہو جانا زندگی کا اختتام نہیں۔ پاکستان میں لاکھوں لوگ اس مرض کے ساتھ کام، خاندان اور شوق سب کچھ نبھا رہے ہیں۔ کامیابی کا راز چند سادہ عادتیں ہیں: دوا باقاعدگی سے لینا، گھر پر وقتاً فوقتاً ریڈنگ لینا، کھانے کے اوقات مقرر رکھنا اور روزانہ کچھ نہ کچھ چلنا پھرنا۔
سال میں کم از کم ایک بار آنکھوں کا معائنہ، گردوں کا ٹیسٹ اور پاؤں کا چیک اپ بھی ضروری ہے، کیونکہ پیچیدگیاں اکثر خاموشی سے شروع ہوتی ہیں۔ اپنی ریڈنگز ایک ڈائری یا موبائل میں لکھتے رہیں اور ڈاکٹر کے پاس جاتے وقت ساتھ لے جائیں۔ اس سے علاج کو بہتر بنانے میں بہت مدد ملتی ہے۔
ڈاکٹر کے پاس فوراً کب جائیں
کچھ حالات میں انتظار کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ اگر شدید پیاس کے ساتھ الٹیاں ہوں، پیٹ میں درد ہو، سانس تیز چلے، سانس سے میٹھی سی بو آئے یا غنودگی طاری ہو، تو فوری طور پر ہسپتال جائیں۔ یہ ایک ایمرجنسی ہو سکتی ہے، خاص طور پر بچوں اور نوجوانوں میں۔
اسی طرح پاؤں پر ایسا زخم جو سرخ، گرم یا سوجا ہوا ہو، اچانک نظر کا شدید متاثر ہونا، یا سینے میں درد بھی فوری توجہ مانگتے ہیں۔ اس مرض میں مبتلا افراد میں دل کے دورے کی علامات بعض اوقات کم واضح ہوتی ہیں، اس لیے شک ہو تو فوراً مدد حاصل کریں۔
خاندان کا کردار
پاکستانی گھروں میں کھانا عام طور پر سب کے لیے ایک ہی پکتا ہے۔ اس لیے اگر گھر کا کوئی فرد اس بیماری میں مبتلا ہو تو پورے خاندان کو مل کر بہتر عادتیں اپنانی چاہیں۔ تیل کم کرنا، سبزیوں کا حصہ بڑھانا اور میٹھی چیزیں کبھی کبھار بنانا پورے گھر کی صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔
شادیوں اور دعوتوں میں مریض کو بار بار میٹھا کھانے پر اصرار نہ کریں۔ محبت کا اظہار اس کی صحت کا خیال رکھنے میں ہے۔ بزرگ مریضوں کو دوا یاد دلانا اور ان کے ساتھ شام کی سیر پر جانا چھوٹی مگر بہت بڑی مدد ہے۔
شوگر کی علامات کے بارے میں عام سوالات
شوگر کی پہلی علامت کیا ہوتی ہے؟
بہت سے لوگوں میں بار بار پیاس اور بار بار پیشاب پہلی نمایاں علامات ہوتی ہیں، لیکن کئی لوگوں کو کوئی علامت محسوس نہیں ہوتی۔
فاسٹنگ شکر کتنی ہونی چاہیے؟
عام طور پر ایک سو ملی گرام فی ڈسی لیٹر سے کم کو نارمل مانا جاتا ہے۔
کیا شوگر مکمل طور پر ختم ہو سکتی ہے؟
ٹائپ ٹو ذیابیطس کو وزن کم کرنے اور طرز زندگی بدلنے سے اکثر بہت اچھی طرح قابو کیا جا سکتا ہے، لیکن اسے عام طور پر مستقل علاج سمجھا جاتا ہے نہ کہ ختم۔
کتنی بار ٹیسٹ کروانا چاہیے؟
جن لوگوں کو خطرہ زیادہ ہے وہ سال میں کم از کم ایک بار ٹیسٹ کروائیں، یا جیسا ڈاکٹر مشورہ دے۔
اگر آپ میں اوپر بیان کی گئی علامات میں سے کوئی بھی موجود ہے یا آپ خطرے والے گروپ میں ہیں، تو اس ہفتے شکر کا ٹیسٹ کروا لیں۔ یہ چھوٹا سا قدم بڑی پریشانیوں سے بچا سکتا ہے۔ صحت پر مزید مضامین کے لیے ہمارا اردو سیکشن اور انگریزی میں خواتین میں دل کے دورے کی علامات پر ہمارا مضمون دیکھیں۔
یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے اور طبی مشورے کا متبادل نہیں۔ تشخیص اور علاج کے لیے اپنے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔




